20 اکتوبر 2012 - 20:30

دنیا کی اندھیر نگری، انسانی حقوق کے دوہرے معیار، اپنے بےضمیر حلیفوں کے جرائم سے چشم پوشی کرنے والے عالمی بےضمیرقوتوں کے انسانی حقوق اور جمہوریت کے شرمناک دعوے؛ آل خلیفہ نے بحرین میں العکر کے علاقے کا غذائی محاصرہ کرلیا ہے / خلیفی وزیر داخلہ پر مقدمہ چلانے کی درخواست / محاصرہ توڑنے والوں پر خلیفیوں کا حملہ۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کی ڈموکریٹک جمعیت کے سیکریٹری جنرل نے العالم کے ساتھ اپنے انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ آل خلیفہ حکومت نے العکر کے علاقے کا غذائی محاصرہ کرلیا ہے اور کسی قسم کی اشیاء خورد و نوش کو اس علاقے میں نہیں پہنچنے دے رہی ہے۔ بحرین کی قومی ڈیموکریٹک جمعیت کے سیکریٹری جنرل فاضل عباس نے کہا کہ آل خلیفہ نے، العکر کے علاقے میں پرامن مظاہرین کو کچلتے ہوئے اپنے کرائے کے گماشتوں میں سے ایک کی ہلاکت کو دستاویز بنا کر اس علاقے کا محاصرہ کرلیا ہے اور اس علاقے میں اشیائے خورد ونوش کی ترسیل پر عملا پابندی لگا رکھی ہے اور کسی کو بھی علاقے میں یہ پہنچانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ کے کرائے کے گماشتے کسی عدالتی حکم کے بغیر لوگوں کے گھروں پر چھاپے مار رہے ہیں جبکہ ان کے پاس اٹارنی جنرل آفس یا کسی بھی عدالت کی طرف سے کوئی قانونی حکم نہیں ہے۔ عباس نے العکر کا محاصرہ فوری طور پر اٹھانے پر زور دیتے ہوئے کہا: ہلاک ہونے والے شخص کی ہلاکت کے بارے میں تحقیقات کا فوری طور پر آغاز کرنا چاہئے۔انھوں نے کہا: العکر میں ہلاک ہونے والے کا تعلق بحرین سے نہيں ہے!۔انھوں نے اسی حال میں جیلوں اور جیلوں کے باہر بحرینی نوجوانوں کے قتل اور آل خلیفہ حکومت کے جرائم کے بارے میں بھی تحقیق کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آل خلیفہ حکومت کے مخالفین کا موقف بالکل واضح ہے وہ پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور گذشتہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصے میں اپنے اس رویئے کا عملی ثبوت فراہم کرتے رہے ہیں چنانچہ آل خلیفہ حکومت کی طرف سے اپوزیشن اور انقلابیوں پر تشدد کا الزام لگانا بے معنی ہے۔ دریں اثناء بحرین کے اخبار نویس جواد عبدالوہاب نے بھی العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: عوام کے گھروں پر حملے اور العکر کے علاقے کا محاصرہ انقلاب بحرین کا شعلہ بجھانے میں آل خلیفہ حکومت کی بے بسی کی علامت ہے۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ حکومت اس سے کہیں کمزور ہے کہ وہ انقلاب بحرین کو روک سکے اور کرائے کے بیرونی قاتل کی ہلاکت کے بہانے اس طرح کی روشیں اپنانے سے ایک انقلاب کا راستہ نہيں روکا جاسکتا۔ انھوں نے العکر میں پرامن عوامی احتجاج کے دوران کسی خلیفی گماشتے کی ہلاکت کے سرکاری دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا: جب کبھی کسی قتل کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کی کچھ نشانیاں رہ جاتی ہیں، زمین پر خون کے دھبے ہوتے ہیں، دھماکے کے اثرات ہوتے ہیں یا پھر اس واقعے کی تصویریں منظر عام پر آتی ہیں لیکن اس دعوے کے بارے میں ایسی کوئی نشانی نظر نہیں آئی ہے۔انھوں نے کہا: کل رات آل خلیفہ کے گماشتوں نے العکر کے علاقوں میں 40 گھروں کی چادر اور چاردیواری کو پامال کیا لوگوں کے گھروں میں داخل ہوئے اور عوام کو اپنے گھروں میں تشدد کا نشانہ بنایا اور زد و کوب کیا لیکن ان تمام درندگیوں سے آل خلیفہ کو کوئی فائدہ پہنچنے کے بجائے، وہ معدودے چند جماعتیں بھی جو آل خلیفہ کے ساتھ مذاکرات کے خواہاں ہیں، عوام کی صفوں میں لوٹیں گی اور عوام کے ساتھ مل کر آل خلیفہ حکومت کے زوال و سرنگونی کا مطالبہ کریں گی۔

عالمی عدالت میں آل خلیفہ کے وزیر داخلہ پر مقدمہ چلانے کی درخواستبحرین انسانی حقوق سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ آل خلیفہ کے وزير داخلہ پر انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم میں ملوث ہونے کی بنا پر بین الاقوامی جرائم کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔  انسانی حقوقی کی بحرینی سوسائٹی نے بین الاقوامی جرائم کی عدالت (International Criminal Court) سے درخواست کی ہے کہ راشد بن عبداللہ آل خلیفہ کو انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں، مقدمہ چلائے۔ ادھر الفوفاء نامی بحرینی سیاسی دھڑے نے العکر نامی قصبے کے غذائی محاصرے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا اور کہا کہ آل خلیفہ نے عوامی احتجاج کو کچلنے کے دوران ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی داستان العکر کے عوام کو کچلنے کے لئے جواز کا کام دے رہی ہے۔الوفاء نے آل خلیفہ کو انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے ملت بحرین سے اپیل کی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو العکر کے عوام کے خلاف آل خلیفہ حکومت کی سازش کو ناکام بنانے کے لئے میدان میں آئیں اور ان سے یکجہتی کا عملی اظہار کریں۔ بحرین کے سیاسی و ابلاغی ذرائع نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کے کرائے کے گماشتوں نے غاصب سعودی فورسز کی مدد سے العکر کا شدید ترین محاصرہ کرلیا ہے اور خلیفی و سعودی فورسز العکر کے اندر اور اس کے ارد گرد تعینات کی گئی ہیں اور العکر کے لوگوں کو باہر جانے اور باہر سے دوسرے بحرینیوں کے اس علاقے میں داخلے سے روک رہی ہیں۔ان ذرائع نے العکر کے اندر عوام کی انسانی صورت حال کو افسوسناک قرار دیا ہے اور عوام کی مسلسل گرفتاریوں اور ان کو زدو کوب کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے سلسلے میں، تشویش کا اظہار کیا ہے۔

العکر کا محاصرہ توڑنے والے قافلے پر خلیفی گماشتوں کا حملہآل خلیفہ کے گماشتوں نے ـ جن میں مطلق اکثریت کرائے کے بیرونی ایجنٹوں کی ہے ـ العکر کا محاصرہ توڑنے والے عوامی قافلے پر حملہ کرکے انہیں زہریلی گیس کے گولوں کا نشانہ بنایا اور انہیں دھمکی دی کہ اگر وہ محاصرہ توڑنے پر اصرار کریں تو انہیں جنگی گولیوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق العالم نیٹ ورک نے آج اتوار کے روز اعلان کیا کہ آل حلیفہ کی سیکورٹی فورسز نے ان عوام کو جنگی گولیوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی جنہوں نے العکر کے عوام کے اشیائے خورد و نوش اور دوائیں پہنچانے کی کوشش کی تھی۔اس رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ کی فورسز نے قافلے کے شرکاء کو ـ جو کھانے پینے کی اشیاء اور دوائیں ساتھ لائے تھے ـ زہریلی گیسوں کا نشانہ بنایا۔العکر کے عوام گذشتہ بدھ کے روز سے آل خلیفہ کی فورسز کے توسط سے شدید غذائی محاصرے کا سامنا کررہے ہیں اور انھوں نے پورے بحرین کے عوام سے امداد کی اپیل کی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110